اسرائیلی پارلیمنٹ کا متنازع فیصلہ، فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا قانون منظور

یروشلم: اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے ایک نہایت متنازع اور سخت گیر قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔

اس فیصلے نے نہ صرف فلسطینی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جیسے ہی اس قانون کی منظوری کا اعلان کیا گیا، اس کے حامی رکن پارلیمنٹ جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے خوشی سے چیخیں مارنے لگے۔

ایوان کے اندر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزراء اور خاص طور پر انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر سمیت دیگر ارکان نے کھلے عام خوشی کا اظہار کیا۔

اطلاعات ہیں کہ بعض وزراء نے ایوان کے اندر ہی شراب کی بوتلیں کھول کر اس فیصلے کا جشن منایا، جسے ناقدین نے نہایت غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز عمل قرار دیا ہے۔

اس فیصلے نے دس ہزار فلسطینی قیدیوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے