واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے بعد ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے مشترکہ تجاویز پیش کر دی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان تجاویز کا بنیادی مقصد نہ صرف خطے میں تیل کی ترسیل کو بحال کرنا ہے بلکہ عالمی معیشت کو ممکنہ بحران سے بچانا بھی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیش کی گئی تجاویز میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ نہر سویز کی طرز پر آبنائے ہرمز میں بھی فیس کا باقاعدہ نظام متعارف کرایا جائے، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں سے چارجز وصول کیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی جانب سے ایک مشترکہ کنسورشیم بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے جو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تیل کے بہاؤ اور سکیورٹی امور کی نگرانی کرے گا۔
یہ اقدام بظاہر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جغرافیائی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے اور توانائی کے راستوں پر کنٹرول عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ پلان پر امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت بھی ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
مزید برآں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت نے اس پورے عمل کے دوران امریکی نائب صدر وینس کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان بھی اس حساس معاملے میں سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔ تاہم ایران کے اندر اس تجویز کی حمایت یا مخالفت کے حوالے سے صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ایک نئے قانون کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان کے مطابق تہران اس اہم آبی راستے کو ایک باقاعدہ معاشی ذریعہ بنانے کی پالیسی پر غور کر رہا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف اقتصادی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں بلکہ اسٹریٹجک کنٹرول کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔