ٹیکساس: پورٹ آرتھر میں واقع ایک بڑی آئل ریفائنری میں زور دار دھماکے کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں علاقے میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ایک بڑی آئل ریفائنری میں ہوا جو امریکی توانائی کے نظام میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اس ریفائنری میں روزانہ تقریباً 435,000 بیرل خام تیل پراسیس کیا جاتا ہے، جسے پیٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں جبکہ آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل کئی کلومیٹر تک دیکھے گئے، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کے فوری بعد مقامی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو طلب کر لیا گیا۔
حکام نے احتیاطی تدبیر کے طور پر قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ٹریفک کو بھی متاثرہ علاقے سے دور رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ کسی صنعتی ہیٹر کے باعث پیش آیا، تاہم حتمی وجہ جاننے کے لیے مکمل انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم حکام فضا میں ممکنہ خطرناک گیسوں کے اخراج کو مانیٹر کر رہے ہیں کیونکہ بعض علاقوں میں تیز بدبو کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب عالمی سطح پر پہلے ہی توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے، اور اس طرح کے حادثات عالمی آئل سپلائی اور قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں اور صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں لانے تک ایمرجنسی نافذ رہے گی۔