جدہ (ویب ڈیسک) سعودی وزیرِ خارجہ نے ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر اعتماد اب تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو سعودی عرب فوجی جواب دینے سے ہرگز نہیں ہچکچائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو یہ اس کی بڑی غلط فہمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خطے کے ممالک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جا سکتا ہے۔
فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ موجودہ کشیدگی ختم بھی ہو جائے تو ایران کے ساتھ مستقبل میں اعتماد کا بحران برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب اپنے ملک اور اپنے وسائل کے دفاع کے لیے تمام ضروری فیصلے کرے گا اور کسی بھی خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ایران کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران پڑوسی ممالک کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر یقین نہیں رکھتا بلکہ وہ مسلسل اپنی جارحانہ پالیسیوں پر قائم ہے، اور اس کے باوجود یکجہتی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہا ہے۔
سعودی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کا تاریخی رویہ بھی اپنے پڑوسی ممالک کے حوالے سے مخالفانہ رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں بداعتمادی کی فضا مزید گہری ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ایران اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔