واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) ایران جنگ کے تناظر میں ایک اہم پروگرام میں سینئر تجزیہ کار تاشفین قیوم نے عالمی توانائی، جغرافیائی سیاست اور تیل کی ترسیل سے جڑے حساس معاملات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت کو شدید بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
پروگرام کے میزبان چیف ایڈیٹر ورلڈ واچ الرٹ آصف علی بھٹی نے ڈبلیو ڈبلیو اے اور پاکستان یو ایس فرینڈز فورم کے پلیٹ فارم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ جدید دنیا میں طاقت کا اصل محور قدرتی وسائل، خاص طور پر تیل اور گیس ہیں۔
اس موقع پر تاشفین قیوم نے بتایا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اب براہ راست جنگ کے بجائے وسائل پر کنٹرول کے لیے میدان میں ہیں، اور ایران اس وقت اسی عالمی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق امریکہ اس وقت تقریباً 21 ملین بیرل یومیہ تیل پیدا کر رہا ہے جبکہ عالمی کھپت 116 سے 118 ملین بیرل کے درمیان ہے، تاہم اس کے باوجود مشرق وسطیٰ کی اہمیت کم نہیں ہوئی کیونکہ دنیا کا تقریباً 31 فیصد تیل اب بھی اسی خطے سے حاصل ہو رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر 80 فیصد تیل سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز جیسے راستے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 20.9 ملین بیرل تیل گزرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی قائم کر رکھی ہے۔
تاشفین قیوم نے خاص طور پر ایران کے خارگ آئل آئی لینڈ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے جہاں سے تقریباً 90 فیصد خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس آئل بیس کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دراصل ایک دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہیں، کیونکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اگر اس کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا تو وہ چند منٹوں میں خلیجی ممالک کی بجلی بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے عالمی تیل سپلائی کا 25 سے 30 فیصد متاثر ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتیں پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں اور خطے میں ہر نئی کشیدگی کے بعد قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جو عالمی کساد بازاری کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔
تاشفین قیوم نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے ڈالر کے بجائے متبادل کرنسیوں میں تیل فروخت کرنے کا عندیہ پیٹرو ڈالر نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے خلیج میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کے ذریعے اپنے اتحادیوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم کئی ممالک اس تنازعے میں براہ راست شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔
دوسری جانب یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے باب المندب کے راستے کو متاثر کرنا عالمی سپلائی چین کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔تجزیہ کار کے مطابق یہ جنگ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ معاشی، نفسیاتی اور تزویراتی پہلو بھی اس میں شامل ہیں۔
ایران نے مذاکرات کے لیے سخت شرائط رکھ کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آنے کے بجائے طویل مزاحمت کے لیے تیار ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک اس کشیدگی کے جلد خاتمے کے خواہاں ہیں کیونکہ ان کی معیشتیں براہ راست تیل پر انحصار کرتی ہیں۔
پروگرام کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران جنگ اب ایک علاقائی تنازعہ نہیں رہی بلکہ یہ عالمی توانائی، معیشت اور طاقت کے توازن کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔