تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے اعلان کیا ہے کہ تہران اب اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا، جب تک کہ ایران پر حملے ان ممالک کی سرزمین سے شروع نہ ہوں۔
اس اعلان کو ایران کی علاقائی عسکری پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی عبوری قیادت کونسل کے ایک اجلاس میں منظور کیا گیا، جو گزشتہ روز منعقد ہوا تھا۔
نئی پالیسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج پڑوسی ریاستوں کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنائیں گی جب تک ان ممالک کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد خطے کے ممالک کے ساتھ مزید کشیدگی کو روکنا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی پڑوسی ملک کی سرزمین سے ایران کے خلاف خطرہ یا حملہ سامنے آیا تو ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حالیہ دنوں میں مختلف فوجی واقعات اور سکیورٹی خدشات نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت بھی کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں سے خطے کی حکومتوں میں تشویش پیدا ہوئی اور اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا بلکہ خطے میں استحکام اور امن کو ترجیح دیتا ہے۔