پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فنانس کے پس منظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکومتِ پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ وزارتِ خزانہ اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان طے پایا ہے، جو ورلڈ فنانشل لبرٹی سے منسلک کمپنی ہے، اور اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں کرپٹو کرنسی سے جڑے جدید مالیاتی ڈھانچے پر باضابطہ گفتگو کا آغاز کرنا ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان میں اسٹیبل کوائن کے استعمال، ریگولیٹری فریم ورک، اور ممکنہ قانونی و تکنیکی پہلوؤں پر مشاورت شروع کی جائے گی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت کرپٹو اثاثوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں ایک منظم اور کنٹرولڈ نظام کے تحت لانے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پیمنٹس، خاص طور پر کراس بارڈر ادائیگیوں کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو مستقبل میں کرپٹو اور بلاک چین پر مبنی حل کے لیے راستہ ہموار کر سکتا ہے۔
معاہدے پر وزیر خزانہ اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو نے دستخط کیے، جبکہ اس موقع پر اعلیٰ سطحی عسکری قیادت کی موجودگی اور بعد ازاں وزیر اعظم سے کمپنی کے وفد کی ملاقات اس امر کی عکاس ہے کہ ڈیجیٹل فنانس اور کرپٹو ٹیکنالوجی کو ریاستی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان میں کرپٹو کرنسی صارفین اور ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ حلقوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ مستقبل میں اس شعبے کے حوالے سے واضح پالیسی اور ممکنہ سہولیات سامنے آ سکتی ہیں۔