اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان کی جانب سے افغانستان میں جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے پہلی بار اعلیٰ سطح پر تفصیلی اور واضح سرکاری موقف سامنے آ گیا ہے۔
ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آپریشن “غضبُ للحق” بدستور جاری رہے گا اور اسے اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے قابلِ تصدیق اور عملی یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں جاری آپریشنز کا دورانیہ مکمل طور پر افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات سے مشروط ہوگا۔ واضح کیا گیا کہ پاکستان کسی جلد بازی میں نہیں ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
عہدیدار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق افغان طالبان حکومت بطور پراکسی ماسٹر خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے والے متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ الزام عائد کیا گیا کہ مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں ایک جنگی معیشت کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کا مقصد علاقائی استحکام نہیں بلکہ مالی مفادات اور طاقت کا حصول ہے۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیاں اندھا دھند نہیں بلکہ مکمل انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جا رہی ہیں۔ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، لانچ پیڈز اور اُن کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان اہداف کو بین الاقوامی قوانین کے تحت دفاعِ خودی کے زمرے میں قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ وہی عناصر ہیں جو پاکستان کے اندر مساجد، تعلیمی اداروں اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے۔ یہ وہ مقامات تھے جنہیں دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہی تھیں۔
پاکستانی حکام نے افغان طالبان اور اُن کے بھارتی سرپرستوں پر الزام عائد کیا کہ وہ سوشل میڈیا اور سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ کہا گیا کہ افغان طالبان کے سرکاری ذرائع قابلِ اعتبار نہیں اور ان کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو بعض مظلوم افغان برادریوں اور اقلیتوں کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ کارروائیاں صرف ان خوارجی عناصر اور ان کے حامیوں کے خلاف ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث یا معاون ہیں۔
حکام نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ پاکستان افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کا خواہاں ہے۔ واضح کیا گیا کہ افغانستان کا سیاسی مستقبل افغان عوام کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
داخلی سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ ملک میں پاک فوج کی شمولیت گورننس کے خلا کے باعث ہوئی۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا اور متعلقہ اداروں کا سیاست زدہ ہونا صورتحال کو پیچیدہ بناتا رہا، جس کے باعث فوج کو کردار ادا کرنا پڑا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ بہتر حکمرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔
ایران کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سرکاری حکام نے کہا کہ پاکستان ایران کے حوالے سے متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایران نے پاکستان کے حالیہ ردعمل کو سراہا ہے جس کی تائید چین اور روس کی جانب سے بھی کی گئی۔ تاہم پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح طور پر بیان کیے ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے۔ یہ تاثر کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے تناظر میں یکساں قرار دینا درست نہیں۔
واضح کیا گیا کہ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں اور ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا عملی مظاہرہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور حالیہ معرکۂ حق میں کیا جا چکا ہے۔
پاکستانی مسلح افواج کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اپنی بہادر اور ثابت قدم قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا۔ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس سے متعلق تفصیلات تاحال طے نہیں ہوئیں اور پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔
ایران پر حملوں کے بعد پاکستان میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران میں پیش آنے والے واقعات پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے افراتفری پھیلانے کی ہر کوشش سے قانون کے مطابق نمٹیں گے اور چند شرپسند عناصر کو پُرامن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔