اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ یہ ہماری اپنی بہادر افواج ہیں جو اپنے ہمسائے کی طاقت اور چالاکیوں کو اچھی طرح جانتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اب کھلی جنگ کا آغاز ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا، “اب دما دم مست قلندر ہوگا”۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ پاک فوج کسی ملک کی پراکسی نہیں ہے، بلکہ یہ افواج بھارت کی مرضی اور افغان جارحیت کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد امید کر رہی تھیں کہ خطے میں امن قائم ہوگا اور طالبان اقتدار کی مسند پر بیٹھ کر عوام کے مفاد میں کام کریں گے، مگر طالبان نے بھارت کے حمایتی کردار کا مظاہرہ کیا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ طالبان نے دنیا بھر کے دہشت گردوں کو افغانستان میں جمع کیا اور پھر ان کی تربیت کے بعد دہشت گردی کا سلسلہ بیرون ملک بھیجنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے اپنی عوام کو بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھا، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جب پاکستان پر جارحیت کی گئی تو پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا اور دشمن کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔