امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے تہران پر براہِ راست اقتصادی وار کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایران پر دباؤ بڑھانے اور اس کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ اس فیصلے میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے اس حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف تباہ کن اقدامات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ایران کے خلاف فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز میز پر موجود ہیں، تاہم سفارتکاری بدستور واشنگٹن کی پہلی ترجیح ہے۔
ترجمان کے مطابق امریکی حکومت ایران کے معاملے پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت کر رہی ہے، جبکہ خطے میں سلامتی کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ امریکی فیصلے کے بعد عالمی منڈیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔