نیو یارک (ویب ڈیسک) امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے شدید برفانی طوفان کے پیش نظر نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے اتوار کو شہر کے تمام ٹریفک نظام کو ہنگامی خدمات کے علاوہ بند کرنے کا حکم دے دیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کی رات 9 بجے سے پیر کی دوپہر تک شہر کی تمام سڑکیں، شاہراہیں اور پل عام آمدورفت کے لیے بند رہیں گے۔
زہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک شہر نے گزشتہ 10 برسوں میں اس شدت کا طوفان نہیں دیکھا، اسی لیے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہنگامی حالت نافذ کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ موسمیات نیشنل ویدر سروس کے مطابق یہ برفانی طوفان وفاقی دارالحکومت واشنگٹن سے لے کر شمالی ریاست مین تک پھیلے گا اور تقریباً 54 ملین افراد اس کی زد میں آئیں گے۔ بعض علاقوں میں 2 فٹ یعنی تقریباً 60 سینٹی میٹر تک برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ عروج کے وقت برفباری کی رفتار 2 سے 3 انچ فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ میری لینڈ سے جنوب مشرقی میساچوسٹس تک برفانی طوفانی کیفیت تیزی سے پیدا ہوگی جس سے سفر انتہائی خطرناک ہو جائے گا۔ شدید ہواؤں کے جھکڑوں کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ریاست نیو جرسی کی گورنر مِکی شیرل نے بھی اتوار کی دوپہر سے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے تاکہ وسائل کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی طرح بوسٹن کی میئر مِشیل وو نے پیر کے روز تمام سرکاری تعلیمی اداروں اور بلدیاتی دفاتر کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے اور شہریوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔
محکمہ موسمیات نے مزید خبردار کیا ہے کہ ڈیلاویئر سے لے کر کیپ کوڈ تک ساحلی علاقوں میں درمیانے سے بڑے درجے کی ساحلی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے ساحلی سڑکیں اور رہائشی املاک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکول نے پریس بریفنگ میں خبردار کیا کہ ابھی بدترین مرحلہ آنا باقی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ فوری طور پر اشیائے خورونوش، ادویات اور دیگر ضروری سامان ذخیرہ کر لیں اور طوفان کے دوران گھروں میں محفوظ رہیں۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل بھی اسی خطے میں آنے والے ایک شدید موسمی نظام کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بار بھی اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو جانی و مالی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔
شمال مشرقی امریکا میں متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور شہریوں سے مکمل تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔