بنوں میں آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل سمیت 2 جوان شہید

بنوں: سکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں میں خفیہ اطلاع پر کارروائی (انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن) کے دوران بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

دہشت گردوں کی جانب سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 2 جوان شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کی گئی، جن میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔

سکیورٹی فورسز کے اگلے دستے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار کو روک لیا اور اس کا منصوبہ ناکام بنا دیا، جو بنوں شہر میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔ تاہم کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے ایک بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کی گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز (عمر 43 سال)، جو ضلع مانسہرہ کے رہائشی تھے، اور سپاہی کرامت شاہ (عمر 28 سال)، رہائشی پشاور، جامِ شہادت نوش کر گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان عبوری حکومت ایک بار پھر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، حتیٰ کہ ماہِ رمضان میں بھی دہشت گرد کارروائیاں جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان اس بزدلانہ کارروائی کے ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے گا اور “عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہیں گے۔

فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جوانوں کی قربانیاں دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

یہ کارروائی 17 فروری کو باجوڑ میں ہونے والے حملے کے بعد کی گئی، جس میں 11 اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے