سپریم کورٹ کا فیصلہ: حکومت کی اپیل خارج، ریاست اپنی نااہلی کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈال سکتی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے فنانس ڈویژن کی جانب سے سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو زائد المیعاد قرار دے کر خارج کر دیا اور حکومت کی جانب سے تاخیر معاف کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اپیل میں تاخیر کی وجہ سرکاری افسران کی کمی یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا حکومت کا اپنا قصور ہے، جس کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قانون پر عمل کرنا صرف افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط کا لازمی حصہ ہے اور دفاتر میں رولز یا انتظامی مشکلات وقت کی پابندی سے اوپر نہیں ہو سکتیں۔

عدالت نے کہا کہ ریاست شہریوں سے قانون منواتی ہے لیکن خود بہانے نہیں بنا سکتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حکومت کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام شہری کو ملتا ہے، وفاقی حکومت کوئی انوکھا سائل نہیں اور اسے بھی عام شہری کی طرح قانون ماننا ہوگا۔

بیوروکریسی کی سستی یا غفلت کی سزا دوسرے فریق کو نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی حکومت نے سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی، لیکن 60 دن کی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل جمع کروائی گئی، جسے سپریم کورٹ نے زائد المیعاد قرار دے کر خارج کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے