تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے فوجی جارحیت کی تو اسلامی جمہوریہ ایران بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل کرے گا۔ ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتینو گوتیرس کو ایک ہنگامی خط لکھ کر اپنی پوزیشن واضح کی۔
خط میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ فوجی جارحیت کا خطرہ حقیقی ہے، تاہم ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی کشیدگی میں اضافہ کرنا اس کا مقصد ہے۔
خط میں مزید وضاحت کی گئی کہ اگر حملہ کیا گیا تو ایران آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے مکمل اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔ اس دفاعی ردعمل میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈے، تنصیبات اور دیگر اثاثے ایران کے جائز ہدف ہوں گے۔
ایرانی مشن نے اپنے خط میں امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو امریکا کو Diego Garcia اور RAF Fairford کے ایئر فیلڈ استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
مزید برآں، ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ایرانی حکام نے زور دیا کہ پرامن حل کی تلاش اولین ترجیح ہے، لیکن ملک کی خودمختاری اور دفاع کے حق کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔