سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کے انکشافات نے کراچی میں شہری سلامتی اور ریسکیو نظام کی ناکامی بے نقاب کر دی

کراچی (نمائندہ خصوصی) پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیش آنے والا سانحہ گل پلازہ ایک بار پھر شہری سلامتی، فائر سیفٹی اور ریاستی اداروں کی تیاری پر سنگین سوالات کھڑا کر رہا ہے۔

سانحہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت میں جو حقائق سامنے آئے، وہ محض ایک حادثے نہیں بلکہ ایک اجتماعی غفلت اور ادارہ جاتی ناکامی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کی سربراہی جسٹس آغا فیصل کر رہے ہیں اور پہلی سماعت ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں منعقد ہوئی، جہاں 23 متاثرین اور جاں بحق افراد کے لواحقین نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔

سماعت کے آغاز سے قبل شہدا کے لیے دعا کی گئی، جس کے بعد لواحقین نے جو تفصیلات بیان کیں وہ سن کر کمیشن کے اراکین سمیت موجود افراد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

لواحقین کے بیانات کے مطابق آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے بروقت اور مؤثر کارروائی میں ناکام رہے۔ متعدد عینی شاہدین نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہو چکا تھا، جدید آلات موجود نہیں تھے اور عمارت کے اندر جانے کی عملی کوشش نہیں کی گئی۔

بعض متاثرین کے مطابق آگ پر قابو پانے کے بجائے کئی گھنٹوں تک صرف پانی یا کیمیکل چھڑکا جاتا رہا، جبکہ آگ خود ہی بجھنے کے بعد عمارت کا ڈھانچہ گرنا شروع ہوا۔جاں بحق شہری عبدالحمید کی والدہ نے کمیشن کو بتایا کہ ان کی بیٹے سے آخری بات ساڑھے 10 بجے فون پر ہوئی تھی، جب اس نے بتایا کہ آگ لگ گئی ہے اور وہ باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ عبدالحمید ایک ساتھی کو بچانے کے لیے واپس رکا، جس کے نتیجے میں اس کی لاش ٹکڑوں کی صورت میں ملی۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ متاثرین آخری لمحوں تک خود ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ ادارے تماشائی بنے رہے۔

متعدد لواحقین نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایمبولینسز موقع پر موجود تھیں لیکن عمارت کے اندر داخل ہونے کی کسی نے جرات نہیں کی۔ دھویں کی شدت، راستوں کی بندش، لائٹس کا بند ہونا اور فائر الارم یا اعلانات کا نہ ہونا، ان تمام عوامل نے جانی نقصان میں اضافہ کیا۔

بعض بیانات میں یہ بھی سامنے آیا کہ آگ لگنے کے صرف 10 سے 15 منٹ کے اندر پوری عمارت دھویں اور شعلوں کی لپیٹ میں آ چکی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آگ کی نوعیت غیر معمولی تھی۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کئی لواحقین کو طویل عرصے تک لاشوں کی شناخت کے لیے در در بھٹکنا پڑا۔

ڈی این اے میچ کے بعد بھی میتیں تاخیر سے ملیں، بعض کو ایدھی کے ذریعے لاشیں وصول کرنا پڑیں۔ یہ صورتحال متاثرہ خاندانوں کے لیے نفسیاتی اذیت میں اضافے کا باعث بنی۔

ریسکیو آپریشن سے متعلق بیانات میں شدید تضادات بھی سامنے آئے۔ کہیں کہا گیا کہ دروازے بند تھے، کہیں دعویٰ کیا گیا کہ کھلے تھے، لیکن عینی شاہدین کی اکثریت کے مطابق عمارت کے کئی داخلی و خارجی راستے بند تھے یا دھویں کے باعث ناقابلِ استعمال ہو چکے تھے۔

اس کے علاوہ یہ بھی انکشاف ہوا کہ اسنارکل اور فائر ٹینڈرز موجود تو تھے مگر رکاوٹوں، تنگ راستوں اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث مؤثر استعمال نہ ہو سکے۔

لواحقین نے کمیشن کے سامنے یہ بھی شکایت کی کہ سیکیورٹی اداروں نے بعض مقامات پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا، دھکے دیے گئے اور انہیں اپنے پیاروں کو بچانے کی کوشش سے روکا گیا، جبکہ خود ادارے کوئی عملی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

جوڈیشل کمیشن نے واضح کیا کہ اس تحقیقات کا مقصد محض ذمہ داروں کا تعین نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ٹھوس سفارشات تیار کرنا ہے۔ کمیشن عوام، حکومتی اداروں اور ریسکیو ورکرز سب سے معلومات حاصل کر رہا ہے تاکہ ایک جامع اور شفاف رپورٹ مرتب کی جا سکے۔

ورلڈ واچ الرٹ کے مطابق سانحہ گل پلازہ صرف ایک عمارت میں لگنے والی آگ نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے کہ اگر شہری انفراسٹرکچر، فائر سیفٹی قوانین، اور ریسکیو اداروں کی استعداد کو فوری طور پر بہتر نہ بنایا گیا تو آئندہ بھی قیمتی انسانی جانیں اسی طرح ضائع ہوتی رہیں گی۔

یہ معاملہ اب صرف کراچی یا پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری سلامتی کے عالمی معیارات کے تناظر میں ایک سنجیدہ مثال بن چکا ہے، جس پر فوری توجہ اور عملی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے