واشنگٹن (مانیٹرنگ رپورٹ) بدنام زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں میں شامل چھ افراد کے نام امریکی رکن کانگریس رو کھنہ نے عوامی سطح پر ظاہر کر دیے ہیں، جنہیں اب تک خفیہ رکھا گیا تھا۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن کانگریس رو کھنہ نے ایوان میں خطاب کے دوران بتایا کہ انہوں نے ریپبلکن رکن تھامس میسی کے ہمراہ محکمہ انصاف میں تقریباً دو گھنٹے تک ان دستاویزات کا جائزہ لیا جن میں بعض نام حذف نہیں کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق ان دستاویزات میں شامل چھ ناموں کو پہلے ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
رو کھنہ کے مطابق سامنے آنے والے ناموں میں معروف ارب پتی اور وکٹوریہ سیکرٹ کے بانی لیسلی ویکسنر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض دستاویزات میں ایف بی آئی کی جانب سے ویکسنر کو مبینہ طور پر “شریکِ جرم” کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔ دیگر ناموں میں سالواتورے، میکلاڈزے، لیونک لیونوف، نیکولا کاپوتو اور ایک اور اہم شخصیت کا نام شامل بتایا گیا ہے۔
رو کھنہ کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ان ناموں کی نشاندہی کی تو محکمہ انصاف کے حکام نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ یہ نام غلطی سے ظاہر نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر محدود وقت میں چھ نام سامنے آ سکتے ہیں تو وسیع فائلوں میں مزید نام بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
تاہم واضح رہے کہ ان فائلوں میں کسی شخص کا نام شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے خلاف جرم ثابت ہو گیا ہے۔ نام ای میل رابطوں یا دیگر دستاویزات میں بطور حوالہ بھی آ سکتے ہیں۔ رو کھنہ نے بھی ان افراد کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی کا براہِ راست ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی ان پر فی الحال کوئی باقاعدہ الزام عائد کیا گیا ہے۔
جیفری ایپسٹین کیس پہلے ہی امریکی سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید توجہ کا مرکز رہا ہے، اور تازہ انکشافات نے ایک بار پھر شفافیت اور مکمل تحقیقات کے مطالبات کو تقویت دی ہے۔