اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نومبر کے پہلے ہفتے میں روس کے چار روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات پر مشتمل وفد بھی روس جائے گا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان باضابطہ مذاکرات متوقع ہیں۔ ان مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، اقتصادی شراکت داری اور باہمی دلچسپی کے امور زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
اقتصادی تعاون اور شمالی-جنوبی کوریڈور ایجنڈے میں شامل
دورے کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں شمالی-جنوبی کوریڈور کا منصوبہ بھی اہم موضوعات میں شامل ہوگا، جس کا مقصد علاقائی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان بہتر تجارتی روابط اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں تعاون سے دونوں ممالک کے لیے کاروباری مواقع بڑھانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
کاروباری فورم بھی منعقد ہوگا
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان اور روس کے درمیان ایک کاروباری فورم بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری نمائندے شرکت کریں گے۔
فورم میں سرمایہ کاری کے امکانات، تجارتی تعلقات میں اضافے اور مشترکہ کاروباری منصوبوں پر غور کیا جائے گا۔ پاکستانی کاروباری وفد روسی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرے گا۔
پاکستان اور روس کے تعلقات میں پیش رفت کی توقع
وزیراعظم شہباز شریف کا مجوزہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس دورے میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت متوقع ہے۔
تاہم، دورے کی حتمی تاریخ، مذاکرات کے مکمل ایجنڈے اور دیگر تفصیلات کی باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔