کراچی: بن قاسم میں گھر سے 5 افراد کی لاشیں برآمد، واقعے کی تحقیقات جاری

کراچی: شہر قائد کے علاقے بن قاسم، گلشن فلک ناز میں ایک گھر سے 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں میاں بیوی، ان کی دو کمسن بیٹیاں اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔

پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 30 سالہ شاہزیب، ان کی 28 سالہ اہلیہ صبا، 20 سالہ بہن شمائلہ، 5 سالہ بیٹی ایزل اور 3 سالہ بیٹی آریہ کے نام سے ہوئی ہے۔

گھر اندر سے بند ہونے پر مالک مکان نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہو کر لاشیں برآمد کیں۔

پولیس حکام کے مطابق میاں بیوی کی لاشیں صوفے پر پڑی تھیں اور ان کے سروں پر گولیوں کے نشانات تھے، جبکہ صبا کی گود سے ایک پستول بھی ملا۔ شمائلہ اور دونوں بچیوں کی لاشیں چادر سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ جائے وقوعہ سے گھر کے سربراہ شاہزیب کا ایک خط بھی ملا ہے، جسے تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

پولیس نے بچوں اور نوجوان خاتون کو زہر دیے جانے کے شبہے کا اظہار کیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔ تمام لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے بھیج دیا گیا ہے۔ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کیا گیا۔

ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیزادہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ گھر کے مالک کا ابتدائی بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر مالی مشکلات کے باعث خاندان کی جانب سے خودکشی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ڈی آئی جی ایسٹ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے ہلاکتوں کی اصل وجوہات کا تعین کیا جائے اور اگر کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اہل محلہ کے مطابق مذکورہ خاندان گزشتہ پانچ سے چھ ماہ سے علاقے میں مقیم تھا اور بظاہر خاندان میں کسی قسم کی رنجش کا علم نہیں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور ہلاکتوں کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید تحقیقات کے بعد واضح ہو سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے