لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں آج سے 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کردی، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلسے، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی ہوگی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے یا ترغیب دینے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔ عدالتیں، سرکاری ادارے اور متعلقہ حکام کی باضابطہ اجازت سے منعقد ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ اداروں اور فرائض پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ اداروں کی جانب سے فوری نوعیت کے سکیورٹی خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق عوامی اجتماعات دہشت گرد حملوں کے لیے ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں، اسی لیے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔