اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت ہے، جبکہ ذہنی صحت کے علاج کا خلا تقریباً 95 فیصد ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کا اختتام نہیں بلکہ پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے عملی قومی سفر کا آغاز ہے، اب وقت آگیا ہے کہ پالیسیوں اور وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دو روزہ عالمی سمٹ کے دوران ماہرین، شراکت داروں اور نوجوانوں کی آراء سنی گئیں، جنہوں نے پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کے مستقبل کیلئے واضح راستہ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ذہنی صحت کی سہولیات ہر بچے، نوجوان اور بالغ فرد کے گھر کے قریب پہنچانا قومی ترجیح ہے۔ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت ہے، جبکہ اس شعبے میں علاج کا خلا تقریباً 95 فیصد ہے۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں سے جڑا معاملہ ہے۔ پاکستان میں ذہنی صحت کو دیگر بیماریوں کی طرح ترجیح دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ذہنی صحت کے مسائل بھی دیگر عام طبی مسائل کی طرح قابل علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل کیلئے مدد حاصل کرنے میں کسی قسم کی جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔ ڈپریشن، بے چینی، غصہ اور مڈ لائف کرائسز سمیت ذہنی صحت کے مختلف مسائل کا علاج اور حل ممکن ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ذہنی صحت سے متعلق بدنامی اور غلط تصورات کا خاتمہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت، میڈیا اور معاشرے کے مختلف طبقات کے تعاون کے بغیر ذہنی صحت کے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کیلئے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ میڈیا ہاؤسز کو اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت ذہنی صحت کی آگاہی پر خصوصی توجہ