اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خیبرپختونخوا کی مجموعی سیاسی، امن و امان اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبے کے حالات اور ممکنہ حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر امور کشمیر امیر مقام، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور مجموعی سکیورٹی صورتحال پر وزیراعظم کو بریفنگ دی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گورنر راج، قومی حکومت اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئینی و قانونی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں افغان سرحد پر سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ رانا ثنا اللہ اور امیر مقام نے صوبے کی سیاسی صورتحال اور مختلف سیاسی حلقوں سے ہونے والے روابط کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والے بیک ڈور روابط سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے امن و امان کے قیام اور صوبے میں گورننس کے حوالے سے کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم صوبے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے آئینی و قانونی پہلوؤں پر آج مزید مشاورت متوقع ہے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کے بعد شام یا رات کو ایوان صدر میں بھی اہم ملاقات کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ ملاقات میں وزیراعظم صدر مملکت کو خیبرپختونخوا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کریں گے، جبکہ مختلف سیاسی، آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں صوبائی حکومت کی گورننس، امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں صوبائی سطح پر تعاون سمیت دیگر متعلقہ امور بھی زیرغور آنے کا امکان ہے۔