تہران: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور بے معنی ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اپنے تحریری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرائم اور وعدہ خلافیوں کا یہ سلسلہ امریکا کی بے ایمانی، ناقابل اعتماد ہونے، غیر معقول رویے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جبر، آمرانہ طرزِ عمل اور ظلم امریکی پالیسی کا بنیادی حصہ ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بار بار خلاف ورزیوں نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔
ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسے اس کی بھاری قیمت اور مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا کے لیے ایسے سبق تیار کر رکھے ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام اور حکام پر زور دیا کہ اس نازک مرحلے پر قومی یکجہتی کو ہر سطح پر برقرار رکھا جائے، وطن کی عزت، وقار اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور باہمی اختلافات سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حکام اور رہنماؤں پر اعتماد قائم رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا جنگوں کو وسعت دینا چاہتا ہے، اس لیے اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ غرور، خودپسندی اور خونخواری امریکی پالیسی کا مستقل حصہ ہیں۔