کیا ایران دیوہیکل امریکی بیڑے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی کے مطابق ابراہم لنکن امریکی بحری بیڑہ دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ ہے، جو ایک لاکھ ٹن وزن کے ساتھ سمندر پر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے، جو نارمل ایئر کرافٹ کی نسبت بہت زیادہ ہے جب کہ یہ 75 کے قریب بڑے جنگی فائٹر جہاز اپنے ساتھ لے کر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ اس کو کبھی ڈبویا نہیں جا سکتا ہے اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ نارمل فیول یا آؤٹ سائیڈ انرجی پر انحصار نہیں کرتا بلکہ نیوکلیئر ری ایکٹر پر چلتا ہے اور کنفرم 20 سے 25 سال تک آزادانہ سمندر میں رہ سکتا ہے۔

خالد چشتی نے مزید کہا کہ اگر اس کو سمندر سے باہر لایا جاتا ہے تو وہ اس پر موجود انسانی عملے کی وجہ سے، کیونکہ انسان اتنی دیر سمندر میں رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے روٹیشن کرنی پڑتی ہے۔ اس جہاز پر ٹیکنیشنز سمیت 5500 کا عملہ بیک وقت موجود ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بحری بیڑہ پہلی بار استعمال نہیں ہوا۔ گلف، عراق، ایران اور افغانستان کے خلاف کارروائیوں کے دوران بھی اسے سمندر یا قریبی کوسٹل پر لایا گیا۔

ریٹائرڈ ایئرکموڈور کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی میں جب یہ ایران کے قریب لایا جائے گا تو اپنے بڑے سائز کی وجہ سے یہ ہدف ہونے کے ساتھ ایران کے لیے بھی بڑا چیلنج ہوگا۔ ضروری نہیں کہ اس کو ڈبویا جائے۔

اگر ایران محدود اسٹرائیک کرتا ہے اور ایک چھوٹا موٹا میزائل یا گن بوٹ کے ذریعے تھوڑا نقصان بھی پہنچاتا ہے تو یہ ایران کی بڑی کامیابی ہوگی۔ کیونکہ چھوٹے ملک کی جانب سے بڑی طاقت کو تھوڑا سا نقصان بھی اس کے لیے کامیابی ہوتی ہے۔

جیسا کہ گزشتہ سال ایران اسرائیل جنگ میں جہاں ایران کا بھی بہت نقصان ہوا لیکن ایران کے جوابی وار سے اسرائیل کا بھرم ٹوٹا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ویتنام کے بعد گزشتہ پانچ دہائیوں میں امریکا نے جتنے بھی حملے کیے وہ نیٹو کی چھتری تلے کیے اور اب پہلی بار وہ تنہا یہ حملہ کرے گا جب کہ امریکا کی نیٹو کے بغیر تنہا حملے میں کامیابی کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے