ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی معاہدے سے متعلق 14 نکاتی مسودے کی تفصیل سامنے آگئی

تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مفاہمتی معاہدے سے متعلق 14 نکاتی مسودے کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی رہائی اور مستقبل کے مذاکرات کے اہم نکات شامل ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذریعے نے ایران اور امریکہ کے درمیان زیر غور 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی، ایران کے داخلی امور میں عدم مداخلت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کے احترام کے لیے امریکی عہد کو شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسودے میں 30 روز کے اندر بحری محاصرے کے خاتمے اور ایران کے اطراف سے امریکی افواج کے انخلا کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی انتظامات کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کی تیل و پیٹروکیمیکل مصنوعات پر عائد پابندیوں کی معطلی کی شقیں بھی شامل ہیں، جس سے ایران کو اپنے مالی وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہو سکے گی۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی اقتصادی تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں کی پیشکش کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اسی طرح جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل و بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے متعلق معاملات کے حل کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کی تجویز دی گئی ہے۔

مسودے کے مطابق ایران این پی ٹی معاہدے کے تحت ایک بار پھر اس عہد کی تجدید کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جبکہ مذاکرات کے دوران امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حتمی مذاکرات کے 60 روزہ مرحلے کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے آزاد کیے جائیں گے، جن میں سے نصف رقم مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے پہلے ایران کے اختیار میں دی جائے گی۔ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی نگران طریقۂ کار قائم کرنے اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

مسودے کے مطابق حتمی مذاکرات صرف یورینیم افزودگی، افزودہ جوہری مواد کے مستقبل، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی اقتصادی تعمیر نو تک محدود ہوں گے۔ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی گروہوں کی حمایت کے معاملات کو مذاکراتی ایجنڈے سے مکمل طور پر خارج رکھا گیا ہے۔

تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ مسودے کو ابھی متعلقہ ایرانی اداروں میں مزید غور و خوض اور حتمی منظوری کے مراحل سے گزرنا ہے، اس لیے اسے فی الحال ایک ابتدائی اور غیر حتمی دستاویز تصور کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے