امریکہ نے ایرانی منجمند اثاثوں سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

واشنگٹن: امریکہ مبینہ طور پر ایرانی اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی ممالک کو ان نقصانات کا معاوضہ دینے پر غور کر رہا ہے جو ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں ہوئے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے جنگ بندی کے دوران امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز کے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو یہ جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی ہے کہ امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو کتنا نقصان پہنچا اور اس کے ازالے کے لیے مالی وسائل کہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے سے قبل متعلقہ فریقوں کو متعدد بار خبردار کیا تھا کہ ان کی سرزمین پر امریکی افواج کی موجودگی اور سرگرمیاں انہیں خطرات سے دوچار کر سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق زیرِ غور اثاثے صرف ایران کے منجمد فنڈز تک محدود نہیں بلکہ اس سے وسیع تر امریکی مالی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں، جس سے تہران کے خلاف مزید اقتصادی دباؤ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی معاہدے کا انحصار ان 24 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی رہائی پر ہے جو اس وقت واشنگٹن کے پاس منجمد ہیں۔

تہران کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ امریکہ کی ساکھ اور سنجیدگی کا ایک اہم امتحان ہے، اور اگر پابندیاں برقرار رہیں تو اس سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ اور دشوار ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے