نقل مکانی جرگے کی مشاورت سے ہوئی، کے پی حکومت ذمہ دار ہے: خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تیراہ میں ہر سال برف باری کے باعث نقل مکانی معمول کا حصہ ہے اور اس سال بھی اس عمل سے قبل خیبر پختونخوا حکومت اور علاقے کے عمائدین کے درمیان کامیاب جرگہ ہوا تھا، جس کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی اور دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں شدید سرد موسم کے باعث ہر سال آبادی کا بڑا حصہ عارضی طور پر محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیراہ میں تقریباً 65 فیصد آبادی سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتی ہے اور یہ کوئی غیر معمولی یا نئی صورتحال نہیں۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ 11 دسمبر کو ہونے والے جرگے میں صوبائی حکومت اور مشران کے درمیان تفصیلی مشاورت کے بعد نقل مکانی کے انتظامات پر اتفاق ہوا، جس کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے چار ارب روپے مختص کیے ہیں اور اس رقم کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے لانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق جرگے میں علاقے میں اسکولوں اور تھانوں کے قیام پر بھی اتفاق ہوا تھا، جبکہ مشران نے امن و امان کی بہتری کے لیے مختلف فریقین سے رابطے بھی کیے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت اپنی کارکردگی میں ناکامی کو چھپانے کے لیے صورتحال کو بحران بنا کر پیش کر رہی ہے اور ریاستی اداروں پر الزام تراشی کر رہی ہے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ نقل مکانی کے فیصلے کا فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کئی برسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، جو امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے