بھارت کے سابق سیاستدان اور سینیٹر شانتہ چیتری نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو اندرونی بحران اور ناکام خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر تنہائی کا شکار قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بھارت اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سفارتی مسائل میں گھرا ہوا ہے، جبکہ حکومتی پالیسیوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
شانتہ چیتری کے مطابق مودی کی سفارت کاری زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی اور محض دعوؤں تک محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی معیشت، خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ بڑھتے ٹیکس، بیروزگاری اور مہنگائی نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر تجارتی ٹیرف عائد کیے جانا اور چاہ بہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبے سے پیچھے ہٹنا بھارتی خارجہ پالیسی کی واضح ناکامی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، جبکہ پاکستان نے امریکا، سعودی عرب، ترکیہ اور چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
شانتہ چیتری کے مطابق اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون بھارت کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک چیلنج بنتا جا رہا ہے، اور مستقبل میں کسی بھی تنازع کی صورت میں بھارت کو وسیع اتحاد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اس وقت معاشی کے ساتھ ساتھ فوجی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ اندرونی طور پر بیروزگاری، مہنگائی، عدم مساوات اور ماحولیاتی مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں۔
سابق بھارتی رہنما نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں اور عالمی سطح پر تنہائی کو چھپانے کے لیے مذہبی اور ثقافتی تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔