گل پلازہ سانحہ: ہر دکان دار کو پانچ لاکھ روپے، عمارت دوبارہ تعمیر ہوگی

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحے کے متاثرہ دکان داروں کے لیے فوری مالی امداد اور عمارت کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں ہر دکان کے مالک کو پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے جبکہ گل پلازہ کو گرا کر نئی تعمیر کی جائے گی۔

سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گل پلازہ کا المناک واقعہ پورے ملک کے لیے باعثِ رنج ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ واقعے میں ابتدائی طور پر 88 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے تھے، تاہم تصدیق کے بعد یہ تعداد 82 نکلی، جن میں سے اب تک 67 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ 15 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

مراد علی شاہ کے مطابق متاثرین کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے عمل کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ 15 افراد کا ڈی این اے مکمل ہو چکا ہے جبکہ 52 کا عمل جاری ہے، شناخت کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ آگ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان میں لگی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے رسپانس ٹائم اور ممکنہ کوتاہیوں پر مکمل انکوائری کی جا رہی ہے اور اس سانحے کا مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت اس واقعے پر سیاست برداشت نہیں کرے گی اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا، چاہے وہ سرکاری ادارہ ہو یا فرد، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی سرکاری محکمے کی غفلت ثابت ہوئی تو اسے بھی سزا دی جائے گی۔

گل پلازہ کی تعمیر اور لیز سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ عمارت کی منظوری اور توسیع اٹھارویں ترمیم سے قبل دی گئی تھی اور موجودہ حکومت ماضی کی بے ضابطگیوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت سندھ تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ ایس بی سی اے سے منظور شدہ 1102 دکانوں کے مالکان کو معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ پہلے مرحلے میں فی دکان پانچ لاکھ روپے کراچی چیمبر کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ تاجروں کو دو سال کے لیے متبادل دکانیں فراہم کی جائیں گی، ایک کروڑ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی، جبکہ سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی حکومت اٹھائے گی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کو گرانا ناگزیر ہے اور کوشش کی جائے گی کہ دو سال کے اندر اسے دوبارہ تعمیر کرکے تاجروں کے حوالے کر دیا جائے۔ عارضی دکانوں کا انتظام دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے