واشنگٹن: امریکی کانگریس کے رکن راجا کرشنامورتی، جو انٹیلیجنس اور قومی سلامتی کے معاملات پر اہم کمیٹیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، نے امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو ایک سخت اور باضابطہ خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ نیٹو سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی نہ صرف غیر قانونی ہوگی بلکہ عالمی امن اور مغربی اتحاد کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔
اس خط میں راجا کرشنامورتی نے صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جن میں انہوں نے نیٹو سے نکلنے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
خط کے مطابق نیٹو 1949 سے عالمی سیکیورٹی کا ایک بنیادی ستون رہا ہے اور اس اتحاد نے دہائیوں تک یورپ اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط رکھا ہے۔
کانگریس مین نے اپنے خط میں واضح کیا کہ امریکی قانون، خاص طور پر 2024 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے تحت، صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر نیٹو سے علیحدگی اختیار کریں۔

اس قانون کے مطابق، اس نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ یا تو سینیٹ کی دو تہائی اکثریت کی منظوری سے ممکن ہوگا یا مکمل کانگریس کی منظوری درکار ہوگی، جو کہ آئینی طریقہ کار کا حصہ ہے۔راجا کرشنامورتی نے صدر ٹرمپ کے ان بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن میں انہوں نے نیٹو کے حوالے سے ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ہمیں ان کی ضرورت نہیں”۔
ان کے مطابق اس طرح کے بیانات نہ صرف امریکہ کے اتحادیوں کے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
خط میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر امریکہ اس اہم اتحاد سے الگ ہوتا ہے تو اس کا فائدہ براہ راست روس اور چین جیسے ممالک کو پہنچ سکتا ہے، جبکہ عالمی توازنِ طاقت متاثر ہوگا اور بین الاقوامی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اپنے خط کے اختتام پر راجا کرشنامورتی نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں اور امریکہ کی دیرینہ پالیسیوں، آئینی تقاضوں اور عالمی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نیٹو جیسے اہم اتحاد کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط بنائیں۔