لاہور: پاکستان بھر میں آج یومِ پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ اس سال تقریبات حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت سادگی اختیار کیے ہوئے رہیں۔ یہ دن ہر سال 23 مارچ کو قرارداد لاہور کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب آل انڈیا مسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ پیش کیا تھا۔
اس سال یومِ پاکستان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سطح پر تیل کا شدید بحران جاری ہے، جس کی بڑی وجہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے اخراجات کم کرنے کے لیے کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا، جس کے باعث یومِ پاکستان کی تقریبات بھی سادہ انداز میں منعقد کی گئیں۔
دن کا آغاز وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں۔
عوام نے بھی گھروں اور گلیوں میں قومی پرچم لہرا کر اپنے حب الوطنی کے جذبے کا اظہار کیا۔
لاہور میں علامہ اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں پاک فضائیہ کے چاک و چوبند دستے نے ذمہ داریاں سنبھالیں اور قومی شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں قوم کو یومِ پاکستان کی مبارکباد دی اور اتحاد و یکجہتی پر زور دیا۔
صدر زرداری نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی اتحاد اور مشترکہ جدوجہد ہی ہمیں ترقی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی مشکلات کے باوجود ملک نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں مضبوط اداروں کی تشکیل، ایٹمی صلاحیت کا حصول اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ شامل ہیں۔
یومِ پاکستان اس عزم کے ساتھ منایا گیا کہ قوم قرارداد لاہور کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے موجودہ چیلنجز کا مقابلہ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے ساتھ کرے گی۔