راس لفان پر ڈرون حملہ: قطر نے مائع قدرتی گیس کا بڑا توسیعی منصوبہ مؤخر کر دیا

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر کی سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی نے راس لفان کے صنعتی گیس پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد اپنے بڑے مائع قدرتی گیس کے توسیعی منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔

کمپنی کے مطابق حملے کے بعد حفاظتی اور تکنیکی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے باعث منصوبے کی پیش رفت عارضی طور پر سست پڑ گئی ہے

رپورٹس کے مطابق نارتھ فیلڈ ایسٹ منصوبے سے گیس کی برآمدات اب دو ہزار ستائیس کے اوائل میں شروع ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ راس لفان کا گیس پلانٹ تقریباً ایک ماہ کے اندر دوبارہ مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے یا نہیں۔ اگر پلانٹ کی بندش طویل ہو گئی تو منصوبے کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کے اہم مراکز کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے، جس کے اثرات قطر کے اس بڑے گیس منصوبے پر بھی پڑ رہے ہیں۔

یہ منصوبہ عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے قطر مستقبل میں مائع قدرتی گیس کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

یہ خبر عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے