واشنگٹن: واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کیئر اسٹارمر نے امریکہ کی ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت نہیں کی، جو ان کے بقول حیران کن ہے۔
ٹرمپ نے کہا، “انہوں نے مدد نہیں کی… میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں یہ دن دیکھوں گا۔ میں نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ برطانیہ کی جانب سے ایسا رویہ سامنے آئے گا۔”
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کے مطابق، “یہ ایک مختلف دنیا ہے، حقیقت میں یہ ہمارے آپ کے ملک کے ساتھ ماضی کے تعلقات سے بالکل مختلف نوعیت کا رشتہ ہے۔”
ٹرمپ نے اس اتحاد کو، جسے وہ ماضی میں “سب سے مضبوط اتحاد” قرار دیتے رہے ہیں، موجودہ حالات میں دباؤ کا شکار قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب اس قدر اختلاف سامنے آئے۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں کے لیے واشنگٹن اب لندن پر انحصار نہیں کرتا۔ ٹرمپ نے کہا، “اس سے شاید کوئی فرق نہ پڑے، لیکن (اسٹارمر) کو مدد کرنی چاہیے تھی… انہیں کرنی چاہیے تھی۔”
ٹرمپ کے اس بیان کو امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ایران کے معاملے پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں لندن نے براہِ راست عسکری حمایت سے گریز کرتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔