ایران میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

تہران (ویب ڈیسک) سپریم لیڈر کے انتقال کی صورت میں آئین کے تحت منظم اور ادارہ جاتی عبوری نظام فعال ہو جاتا ہے تاکہ اقتدار کا خلا پیدا نہ ہو۔

تفصیلات کے مطابق عارضی قیادتی کونسل سپریم لیڈر کے اختیارات سنبھالتی ہے جبکہ مجلسِ خبرگان، جو منتخب مذہبی علماء پر مشتمل ایک آئینی ادارہ ہے، نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے اجلاس طلب کرتی ہے۔

نئے رہنما کے لیے ایک سینئر شیعہ اسلامی فقیہ ہونا ضروری ہوتا ہے جس کے پاس مذہبی و سیاسی بصیرت، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور قیادت کا تجربہ موجود ہو۔

اس پورے عمل کا مقصد ریاستی استحکام کو برقرار رکھنا اور کسی بھی داخلی سیاسی بحران کو روکنا ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر سپریم لیڈر کے ساتھ صدر کا عہدہ بھی خالی ہو جائے تو آئین کا آرٹیکل 131 نافذ ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں پہلا نائب صدر قائم مقام صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالتا ہے اور پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ کے ساتھ مل کر 50 دن کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرانے کا پابند ہوتا ہے۔

اسی دوران مجلسِ خبرگان نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل جاری رکھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے