جنیوا: جنیوا میں جاری مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے امریکہ کے تمام مطالبات مسترد کر دیے ہیں، جس کا انکشاف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ایرانی سرکاری اور گمنام ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی غیر ملکی ملک کے حوالے کرنے کی تجویز کو سختی سے مسترد کیا۔ علاوہ ازیں، تہران نے یورینیم افزودگی روکنے، اپنی جوہری تنصیبات کو مسمار کرنے اور جوہری پروگرام پر غیر معینہ مدت تک پابندیاں عائد کرنے کی امریکی تجاویز کو بھی قبول نہیں کیا۔
دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد کہا کہ جنیوا میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان سنجیدہ پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مستقبل کے ممکنہ معاہدے کے بنیادی نکات پر تفصیلی اور گہرے مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور دونوں فریق اب مزید تکنیکی اور پالیسی سطح کے تبادلہ خیال کے لیے تیار ہیں۔
عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کا مقصد تعلقات میں کشیدگی کم کرنا اور خطے میں امن قائم کرنا ہے، اور ایران عالمی قوانین اور جوہری معاہدوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل تلاش کرنے کے لیے سنجیدہ اور تعمیری رویہ اختیار کر رہا ہے۔