جنیوا: امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا تیسرا دور آج جنیوا میں شروع ہو رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، عباس عراقچی نے جوہری معاہدے سے متعلق اپنی تجاویز عمان کے وزیر خارجہ کو پیش کر دی ہیں اور ایران کے موقف کو پابندیوں اور ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی واضح کیا ہے۔
جنیوا میں عمانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران مذاکرات کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔ مذاکرات میں امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک ہوں گے، جبکہ یہ بات چیت بالواسطہ انداز میں جاری رہے گی۔
دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے ایک سنگین خطرہ رہا ہے اور وہ بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس مسئلے کا حل سفارتکاری کے ذریعے چاہتا ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ بھی چاہتے ہیں کہ تنازع بات چیت کے ذریعے حل ہو۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، اور دونوں فریقین ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔