اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخیرے کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اہم اجلاس میں کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق گندم کی فروخت مسابقتی بولی کے ذریعے “فرسٹ اِن فرسٹ آؤٹ” کی بنیاد پر کی جائے گی۔ مقامی گندم کی نئی ریزرو قیمت 4150 روپے فی 40 کلو اور درآمدی گندم کی نئی ریزرو قیمت 3800 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے۔ ذخائر کی فروخت کا مقصد اسٹاک کی لاگت کم کرنا اور مارکیٹ میں دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
ای سی سی نے پاکستان زرعی ذخیرہ و خدمات کارپوریشن کے گندم اسٹاک کی نیلامی کی بھی منظوری دی، تاکہ ملکی ضرورت کے مطابق گندم کی ترسیل اور انتظام ممکن بنایا جا سکے۔
اجلاس میں سابقہ پاک پی ڈبلیو ڈی منصوبوں کے لیے 53 کروڑ 60 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سی اینرجیکو کے پیٹرولیم لیوی واجبات سے متعلق رپورٹ کو مزید جائزے کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ اس حوالے سے مکمل اور تفصیلی سفارشات سامنے آئیں۔