عاصم منیر مرکزی کردار، جنگ بندی ضروری مگر امریکا پر ایران کی بداعتمادی برقرار: تجزیہ

ہیوسٹن: ورلڈ واچ الرٹ کے ایڈیٹر انچیف آصف علی بھٹی نے امریکہ کے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ جنرل سید عاصم منیر ایک متحرک اور اہم سفارتی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق جنرل عاصم منیر پس پردہ کوششوں کے ذریعے ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی دباؤ کو کم کرنے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔

آصف علی بھٹی نے مزید بتایا کہ مصر اور ترکی بھی ثالثی کے عمل میں شامل ہیں، تاہم فریقین کے درمیان بداعتمادی بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ماضی میں دو مرتبہ ایسے مواقع آئے جب مذاکرات جاری تھے لیکن اسی دوران اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے، جس نے اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا۔

انہوں نے امریکی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ واقعی مذاکرات میں مخلص ہیں تو پھر مشرق وسطیٰ میں امریکی ریپڈ فورسز کی اضافی تعیناتی کیوں کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام سفارتی کوششوں کے ساتھ تضاد ظاہر کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

مزید برآں، انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے ایک عالمی فورس کے قیام کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، جبکہ خارگ جزیرہ پر ممکنہ امریکی کنٹرول کی کوششوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو خطے میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

آصف علی بھٹی کے مطابق گزشتہ 30 دنوں میں ہونے والی جنگی تباہی کی بحالی میں کم از کم 10 سال کا عرصہ درکار ہوگا، جو اس تنازع کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ جنگ کے طویل ہونے کی انہیں توقع نہیں تھی۔ امریکی کانگریس سے مزید فنڈز طلب کیے جا رہے ہیں جبکہ جاری جنگ کے باعث امریکہ کو بھاری معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی اس بحران کو مزید برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں، جس کے باعث وہاں سے بھی جنگ بندی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے