ہیوسٹن: چیف ایڈیٹر ورلڈ واچ الرٹ آصف علی بھٹی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو 48 گھنٹے میں ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں تمام بجلی اور تیل کے مراکز کو تباہ کرنے کی دھمکی کے باوجود ایران مرعوب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
وہ جرمن نشریاتی ادارے وائس آف جرمنی کے پروگرام "ورلڈ ٹوڈے” سے خصوصی گفتگو کررہے تھے
آصف علی بھٹی نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ممالک درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، تاہم اہم امریکی دفاعی اور سفارتی حلقوں کی رائے کے مطابق اسرائیل کسی بھی صورت ایران کے ساتھ مذاکرات یا مصالحت کے حق میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپان کے وزیراعظم کیساتھ ٹرمپ کی گفتگو کے دوران ہیروشیما اور ناگاساکی کا تذکرہ صرف علامتی نہیں بلکہ ایک خطرناک عندیہ کے طور پر سمجھا جارہا ہے۔
خلیجی ممالک پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں، ان کی معیشت ناقابل تلافی نقصان اٹھا رہی ہے اور سیاحت صفر پر جاچکی ہے۔ اسی طرح امریکا کے اندر بھی مہنگائی کا طوفان ہے جس سے ٹرمپ انتظامیہ شدید پریشر میں ہے۔
"امریکہ میں شہر شہر جنگ کی مخالفت میں شدید مظاہرے ہورہے ہیں اور امریکی عوام اس غیر ضروری جنگ سے نکلنے کا مطالبہ کررہے ہیں” انہوں نے بتایا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اب تک بہتر سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم امریکی دباؤ کے باعث سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورت میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جو ملک کی علاقائی سیکیورٹی اور سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
آصف علی بھٹی کا کہنا ہے کہ اس وقت خطے میں محتاط سفارتی اقدامات اور توازن کی پالیسی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ تصادم کے خطرات کو کم کیا جا سکے اور پاکستان اپنی علاقائی سیکیورٹی اور اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھ سکے۔