ہیوسٹن: ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور اسلاموفوبیا کے رجحانات کے تناظر میں ایک اہم سیاسی اقدام سامنے آیا ہے۔
ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر سلیمان لالانی نے ایک نئے بین المذاہب قانون ساز اتحاد کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد مذہبی آزادی کا دفاع کرنا اور مسلمانوں سمیت تمام مذہبی برادریوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی کا مقابلہ کرنا ہے۔
ٹیکساس کے شہر رچمنڈ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر سلیمان لالانی نے اعلان کیا کہ “ٹیکساس انٹرفیتھ لیجسلیٹرز کاکس” کے نام سے ایک نیا قانون ساز اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد مختلف مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے تاکہ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سلیمان لالانی اس اتحاد کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے جبکہ ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے رکن جین وو اس کے شریک چیئرمین ہوں گے۔ اس اعلان کے موقع پر مختلف مذاہب کے رہنماؤں، منتخب عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ٹیکساس میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نفرت اور تعصب کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
یہ اعلان ایک بین المذاہب پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جو فورٹ بینڈ کاؤنٹی جسٹس سینٹر کے سامنے منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں مذہبی رہنماؤں، منتخب عہدیداروں اور کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور مسلمانوں سمیت تمام مذہبی برادریوں کے احترام اور تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔
پریس کانفرنس میں شریک اہم شخصیات میں ڈاکٹر سلیمان لالانی، ٹیکساس اسمبلی کے رکن جین وو، ریاستی اسمبلی کے رکن کرسچین مینوئل، پادری جان اسٹریڈر، امام ایمانوئل فاروقی، ایمیج نامی تنظیم کی نمائندہ جیدا نابلسی، تنظیم بی آر آر ڈی کے ڈاکٹر کلیو واڈلی، لاطینی امریکی شہری تنظیم “لیگ آف یونائیٹڈ لاطین امریکن سٹیزنز” کے انتھونی لاسکامانا، مذہبی اسکالر سلیم جعفر اور فورٹ بینڈ کاؤنٹی کے کمشنر ڈیکسٹر میک کوئے شامل تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیمان لالانی نے کہا کہ ٹیکساس میں مسلمانوں کو ایک بار پھر سیاسی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو عوامی تحفظ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ خوف پیدا کرنے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق یہ دراصل ایک سیاسی توجہ ہٹانے کی حکمت عملی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی ایک مذہبی برادری کو اس کی عبادت یا عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے پورا معاشرہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے مختلف مذاہب کے قانون ساز، مذہبی رہنما اور سماجی نمائندے آج ایک ساتھ کھڑے ہیں تاکہ اس تقسیم کو روکا جا سکے اور معاشرے میں اتحاد کو فروغ دیا جا سکے۔
ڈاکٹر لالانی نے بتایا کہ انہوں نے 12 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر ٹیکساس انٹرفیتھ لیجسلیٹرز کاکس کے قیام کی دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔ ان کے مطابق یہ اتحاد کسی فوری ردعمل کے طور پر نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اختلافات کے باوجود بہت سی ایسی اقدار ہیں جو معاشرے کو متحد رکھتی ہیں، اس لیے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے تاکہ ایسا ٹیکساس بنایا جا سکے جہاں کسی بھی شخص کو اس کے مذہب کی وجہ سے خوف یا عدم تحفظ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈاکٹر سلیمان لالانی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سماجی اور شہری معاملات میں فعال کردار ادا کریں اور بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لوگ متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور خاموش رہنے سے انکار کرتے ہیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر سلیمان لالانی ٹیکساس کے ہاؤس ڈسٹرکٹ 76 کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں شوگر لینڈ، اسٹیفورڈ، رچمنڈ اور میڈوز پلیس جیسے شہر شامل ہیں۔ وہ گزشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے بطور معالج خدمات انجام دے رہے ہیں اور صحت کے شعبے کے ساتھ ساتھ قانون سازی کے میدان میں بھی عوامی خدمت کے لیے سرگرم ہیں۔