ہیوسٹن: امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
چیف ایڈیٹر ورلڈ واچ الرٹ آصف علی بھٹی کے مطابق اس جنگ کے سب سے بڑے معاشی اثرات خلیجی عرب ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ تجارتی راستوں، بندرگاہوں اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہونے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ان کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو خلیجی معیشتوں اور عالمی توانائی منڈیوں کو بڑے جھٹکے لگ سکتے ہیں۔ ادھر کئی عرب حکومتیں کھل کر اس جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور امریکہ سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ فوری سفارتی حل تلاش کرے، کیونکہ جاری جنگ خطے کو معاشی اور سکیورٹی بحران میں دھکیل رہی ہے۔