تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد کہ قوی امکان ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے، یہ غیر مصدقہ رپورٹس موصول ہو رہی ہیں کہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں شہید ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت مل چکی ہے، بعد ازاں رائٹرز کے عربی چینل نے اس خبر کی تردید کردی، دوسری جانب بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
خبر رساں ادارے ایکسیوئس نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے امریکی حکام کو مطلع کیا ہے کہ خامنہ ای سنیچر کی صبح ان کے دفتر کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے میں شہید ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے متعدد ذرائع ابلاغ بشمول نیوز 12 اور ٹائمز آف اسرائیل نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نشر کی ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پریشکیان محفوظ ہیں۔
لبنان کے عربی چینل المیادین نے دعویٰ کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر محفوظ ہیں اور جنگی کنٹرول روم میں تمام آپریشنز کی قیادت کررہے ہیں۔ ایک اور ایرانی ذرائع نے بتایا کہ سپریم لیڈر تہران میں موجود ہی نہیں تھے۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق رہبر اعلیٰ کے آفس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ سید مہرداد مہدی نے کہا ہے کہ ’دشمن نے نفسیاتی جنگ کا سہارا لیا ہے، ہم سب کو اس کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔