غزہ میں خواتین کی لاشوں سے اعضا نکالنے کا الزام، جیریمی کاربن کا انکشاف

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی سیاستدان جیریمی کاربن نے غزہ کی صورتحال سے متعلق نہایت سنگین دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شہید ہونے والی فلسطینی خواتین کی لاشوں کے جسم کھول کر ان کے اعضا نکالے۔

ایک حالیہ ویڈیو بیان میں جیریمی کاربن نے بتایا کہ انہیں غزہ کے بڑے طبی مرکز الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر سے براہِ راست معلومات موصول ہوئیں۔

ان کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے 60 یا 70 میتیں بکسوں میں بند کر کے بھیجی گئیں۔انہوں نے کہا کہ جب ان بکسوں کو کھولا گیا تو بعض بکسوں میں صرف کھوپڑیاں موجود تھیں جبکہ باقی اعضا غائب تھے۔

مزید یہ کہ اسپتال کو ایسی خواتین کی لاشیں بھی موصول ہوئیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے اعضا پہلے ہی نکال لیے گئے تھے۔

جیریمی کاربن، جو ماضی میں برطانیہ کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی کی قیادت کر چکے ہیں اور اب آزاد رکن پارلیمنٹ ہیں، نے اس صورتحال کو موجودہ دور کا سنگین اور دردناک المیہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام ایک طویل عرصے سے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں اور عالمی برادری کو اس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

یاد رہے کہ الشفا اسپتال کو اسرائیل حماس کے زیرِ کنٹرول قرار دیتا رہا ہے جبکہ فلسطینی حکام اس موقف کی تردید کرتے آئے ہیں۔

اسرائیلی فوج اکتوبر 2025 میں اس اسپتال سے انخلا کر چکی ہے۔ ان الزامات پر اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے