جنیوا (خصوصی رپورٹ) ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی پروگرام پر جاری کشیدگی کے دوران جنیوا میں تیسرے مذاکراتی دور کا اعلان کر دیا گیا ہے، جہاں دونوں ممالک جمعرات کو ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔
یہ بات سلطنت عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے تصدیق کرتے ہوئے کہی کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مثبت پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔
عمان ان بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں عسکری کشیدگی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایٹمی تنازع کا حل نہ نکلا تو “انتہائی برے نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بھی مضبوط کر دی ہے، جسے مبصرین دباؤ کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ رابطوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ مذاکرات سے “حوصلہ افزا اشارے” ملے ہیں، تاہم ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ ایران نے ابھی تک “ہتھیار کیوں نہیں ڈالے” اور اپنے ایٹمی پروگرام پر مکمل قدغن کیوں قبول نہیں کی۔
ان کے مطابق ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر چکا ہے جو سول مقاصد سے کہیں زیادہ ہے اور یہ صورت حال خطرناک ہو سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “ہم اس لیے سرنگوں نہیں ہوتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔”
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔ذرائع کے مطابق ایران ممکنہ طور پر نئی رعایتوں پر غور کر رہا ہے جن میں اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کا نصف حصہ بیرون ملک منتقل کرنا اور باقی مقدار کو کم درجے تک تحلیل کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے بدلے ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور پرامن ایٹمی افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے کا خواہاں ہے۔
مذاکرات میں ایک بڑا اختلاف یہ بھی ہے کہ امریکا ایٹمی پروگرام کے ساتھ ساتھ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کے معاملے کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جسے تہران نے سرکاری طور پر مسترد کیا ہے۔ تاہم بعض سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران میزائل پروگرام پر تو کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا لیکن علاقائی معاملات پر محدود لچک دکھا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے تھے، بنیادی طور پر اس وجہ سے کہ واشنگٹن ایران سے اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی ترک کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔
ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
حال ہی میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کی بعض ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے اہم ایٹمی مراکز “مکمل طور پر تباہ” کر دیے گئے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق ایران کے پاس پہلے سے افزودہ مواد کا ذخیرہ اب بھی موجود ہے، جو مذاکرات میں ایک اہم نکتہ بنا ہوا ہے۔
ایک اور اہم پیش رفت میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر جلا وطن ایرانی اپوزیشن شخصیت رضا پہلوی سے بھی ملاقات کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنیوا مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں فوجی تصادم کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
فی الحال دونوں فریق سفارتی زبان میں امید اور دباؤ کے امتزاج کا پیغام دے رہے ہیں، اور نظریں جنیوا میں ہونے والے تیسرے دور پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا یا کشیدگی کو مزید بڑھا دے گا۔