بنگلادیش انتخابات؛ خالدہ ضیا کی پارٹی کو 151 اور جماعت اسلامی کو 61 نشستوں پر برتری

بنگلا دیش میں 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیرحتمی نتائج کا سلسلہ جاری ہے جس میں اصل مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔

بنگلادیش کے مقامی میڈیا کے مطابق طلبا تحریک کے نتیجے میں حسینہ واجد کے طویل آمرانہ دور کے خاتمے اور بھارت فرار ہونے کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے الیکشن کرانے کا وعدہ پورا کردیا۔

آج ملک بھر میں ہونے والے انتخابات مجموعی طور پر پُرامن اور شفاف رہے جس میں اب تک کسی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے ہیں تاہم حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی کے باعث الیکشن میں حصہ نہ لے سکی۔

اب تک کے غیر مصدقہ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج میں سابق وزیراعظم مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی سب سے آگے ہے۔

والدہ کے حال ہی میں انتقال کے بعد بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی کی قیادت خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کر رہے ہیں۔

ابتدائی گنتی میں بی این پی 151 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ جماعت اسلامی 62 نشستوں پر برتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

بنگلا دیش کے مختلف میڈیا سے نشستوں کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں، ٹائمز آف بنگلا دیش نے بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 212 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ 70 جماعت اسلامی اور 6 نشستوں پر آزاد امیدواروں کی کامیابی ظاہر کی ہے۔

ڈھاکا ٹریبون نے جماعت اسلامی کی 43 نشستوں پر کامیابی کی خبر دی ہے۔

ڈھاکا سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق بی این پی کے مرکزی آفس کے باہر بڑی تعداد میں اب بھی کارکنوں اور ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو گزشتہ رات سے غیر سرکاری نتائج میں پارٹی کی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے