پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب سمیت 8 ممالک کا علاقائی تنازعات مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام زیرِ التوا تنازعات کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

دنیا نیوز کے مطابق، ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے والے آٹھ ملکی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں خطے کی سلامتی، سیاسی تنازعات اور عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستوں کے تحفظ سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

استنبول اجلاس میں ایران، غزہ، یمن اور اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی پر تبادلہ خیال، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی پر زور

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع، اسرائیل فلسطین تنازع، غزہ میں دو ریاستی حل کی ضرورت اور سعودی عرب سمیت یمن کی حکومت سے متعلق حوثی ملیشیا کے حملوں پر گفتگو ہوئی۔

آبنائے ہرمز اور اہم بحری راستوں کی سلامتی پر زور

آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جہاز رانی کی آزادی اور اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ علاقائی تنازعات کے سکیورٹی، معیشت اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعات کا حل

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام زیرِ التوا تنازعات کا پائیدار حل مذاکرات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔

وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آٹھوں ممالک خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی اقدامات میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

اجلاس میں تنازعات کی روک تھام، کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کو آگے بڑھانے کے لیے اسی آٹھ ملکی فارمیٹ میں مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں سفارت کاری کو علاقائی تنازعات کے حل اور بین الاقوامی تجارت و بحری سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے