نئی دہلی: بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے لاہور میں منعقد ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بھگونت مان کا کہنا ہے کہ انہیں لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور وہ اس میں شرکت کے خواہش مند ہیں۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے دونوں حصوں کے عوام کی جڑیں ایک ہیں اور ان کے مسائل بھی مشترک ہیں۔ اسی لیے وہ لاہور جانا چاہتے ہیں تاکہ مشترکہ ثقافت، زبان اور تاریخی رشتوں سے جڑے لوگوں کے درمیان روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
’اجازت ملے تو ہمیں بھی لاہور لے جائیں‘
بھگونت مان کی پاکستان آنے کی خواہش کے بعد بھارتی سیاست دانوں کی جانب سے بھی لاہور جانے میں دلچسپی ظاہر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسپیکر پارلیمنٹ سمیت متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی پاکستان جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بعض ارکان نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ اگر انہیں لاہور جانے کی اجازت مل جائے تو وہ انہیں بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔
مشترکہ زبان اور ثقافت کے رشتے
پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب کے درمیان زبان، ثقافت، موسیقی، ادب اور تاریخی روایات کے گہرے روابط پائے جاتے ہیں۔ تقسیمِ برصغیر کے باوجود دونوں جانب پنجابی زبان اور ثقافتی ورثے سے وابستگی برقرار ہے۔
لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس جیسے اجتماعات کو ادیبوں، دانش وروں اور ثقافتی شخصیات کے درمیان روابط بڑھانے کا موقع سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، بھگونت مان کے دورۂ پاکستان اور کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارتی حکومت کی باضابطہ اجازت سے متعلق حتمی صورتِ حال واضح ہونا باقی ہے۔