ماسکو: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ روس کا مغربی یورپ کے ساتھ مسلح تنازع شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور ماسکو کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران جرمنی کی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ اگر جرمنی کے اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار اپنے ذاتی مفروضوں کو عوامی سطح پر پیش کر رہے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یورپ خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کسی کو دھمکی نہیں دے رہا، جبکہ صدر ولادیمیر پوتن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ روس مغربی یورپ کے ساتھ مسلح تنازع شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ماریہ زخارووا نے یورپی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ روسی خطرے سے متعلق اپنے دعووں کی وجوہات اور شواہد سامنے لائیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ روس سے منسوب مبینہ اقدامات کے مقاصد اور وجوہات کے بارے میں ایسے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ بعض یورپی ممالک تیزی سے عسکریت پسندی کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس میں نہ صرف دفاعی صنعت کو وسعت دینا بلکہ یورپی عوام میں روس مخالف جذبات اور روس کے ساتھ مبینہ ناگزیر جنگ کا تصور بھی فروغ دینا شامل ہے۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ روسی صدر اس معاملے پر متعدد مرتبہ اپنا مؤقف واضح کر چکے ہیں، اگر مغربی یورپ یا یورپی یونین کی جانب سے روس کے خلاف جارحیت کی گئی تو ماسکو اس کا جواب دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس کے ممکنہ ردعمل کی نوعیت سمجھنے کے لیے صدر ولادیمیر پوتن کے متعلقہ بیانات کا دوبارہ مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔