اقوام متحدہ میں شہباز شریف کا خطاب، پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کو جنگی اقدام قرار دینے کا اعلان

نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں، مسئلہ کشمیر، سندھ طاس کے پانی، اسلاموفوبیا، بھارت کے ساتھ کشیدگی، سعودی عرب کی سلامتی، خطے میں امن اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اپنے شہروں اور پہاڑوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا زیادہ محفوظ ہے اور اس کا سہرا پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور جرات مند شہریوں کی قیمتی قربانیوں کو جاتا ہے جنہوں نے دہشت گردوں اور اجرتی جنگجوؤں کا مقابلہ کیا۔

پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی

شہباز شریف نے کہا کہ دریائے سندھ کے نظام کے مشترکہ پانی نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ پورے خطے کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔

وزیراعظم نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس حوالے سے کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان نے امن کا انتخاب کیا ہے

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اپنا راستہ منتخب کرلیا ہے، ہم نے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، دباؤ کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا انتخاب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

اسلاموفوبیا پر تشویش

شہباز شریف نے دنیا میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی جیسے واقعات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس سے متاثر نظریات مذہبی نفرت کو ہوا دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، ہجومی قتل، مذہبی مقامات پر حملے اور مذہبی آزادیوں پر پابندیاں سامنے آ رہی ہیں۔

کشمیر پر پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں حق خودارادیت حاصل نہیں ہوجاتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی رگِ جاں تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصواب رائے کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیری عوام کو طویل عرصے سے گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزا جیسے اقدامات کا سامنا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ حالیہ عرصے میں جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے آبادیاتی تبدیلیوں اور دیگر اقدامات کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔

ٹرمپ کے کردار کو سراہا

شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور بروقت مداخلت کے باعث جنوبی ایشیا میں کروڑوں افراد کی زندگیاں محفوظ رہیں۔

وزیراعظم کے مطابق اس وقت دو جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے، تاہم امریکی مداخلت نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ کبھی ایسے خطرناک مقام تک نہ پہنچے۔

بھارت کے ساتھ کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف

وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بھارت کی جانب سے ایک ایسے جواز پر بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا جسے پاکستان غلط سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری حق دفاع کو استعمال کیا۔

شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائی کو پیشہ ورانہ اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج نے حملہ پسپا کیا۔

مکہ دفاعی معاہدے کا ذکر

وزیراعظم نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی پاکستان کے امن کے عزم کا اظہار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم ہے۔

سعودی عرب سے مکمل یکجہتی

شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔

مکہ مکرمہ کے خلاف مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس واقعے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ پاکستان کے لیے ایسی سرخ لکیر ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم نے سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اہمیت

وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم شریانیں ہیں اور انہیں کھلا رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستے اقوام کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور خوشحالی کا ذریعہ بننے چاہئیں، نہ کہ کشیدگی اور جنگ کے مراکز۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششیں

شہباز شریف نے کہا کہ ایک اہم مرحلے پر پاکستان نے فوری طور پر کردار ادا کیا اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر لایا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک کئی تاریخی اقدامات کیے گئے تاکہ سنگین تنازع کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی مشکل اور چیلنجنگ حالات میں ان کی مسلسل کوششوں نے سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں جنگ اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، تعاون اور امن کے راستے پر گامزن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے