غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور دو ریاستی حل ناگزیر ہے، اسحاق ڈار

نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے غزہ میں فلسطینی عوام کی تکالیف فوری طور پر ختم کرنے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر دو ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطحی بین الاقوامی اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

اجلاس کا عنوان ’’آگے کا راستہ: نیویارک اعلامیے اور جامع 20 نکاتی امن منصوبے کے ایک سال بعد‘‘ تھا۔ اجلاس کا انعقاد فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کیا۔

اجلاس کے افتتاحی کلمات سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ادا کیے۔

اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز، قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، مصر کے وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی، اردن کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی، ناروے کے وزیراعظم جوناس گار اسٹور، آئرلینڈ کے وزیراعظم میہال مارٹن اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا، غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف، نیدرلینڈز کے وزیراعظم روب جیٹن اور ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں غزہ میں جاری انسانی المیے کے خاتمے اور فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی بلاتعطل رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ناقابل واپسی سیاسی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے جس کے نتیجے میں 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے