نیویارک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر آسٹریا، یونان اور کویت کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آسٹریا کی وزیر برائے یورپی و بین الاقوامی امور بیئٹے میِنل رائزنگر سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آسٹریا کے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی روابط، تعلیم اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔
آسٹریا کی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور علاقائی و عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اسحاق ڈار نے تمام فریقوں کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
یونان کے وزیر خارجہ جارج گیراپیٹریٹس سے ملاقات میں پاکستان اور یونان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
یونانی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار اور عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کو سراہا۔ انہوں نے یونان میں مقیم پاکستانی برادری کے قابل قدر کردار کی بھی تعریف کی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی و عالمی صورتحال، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں اور سمندری نقل و حرکت کی بلا رکاوٹ فراہمی کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے مسلسل روابط برقرار رکھنے اور باہمی دوروں کی دعوتوں کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور کویت کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے مسلسل روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تمام مسائل کے حل اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔